Tuesday, 21 September 2021

وہ اپنی فکر کی گہرائیوں میں رہتا ہے

وہ اپنی فکر کی گہرائیوں میں رہتا ہے

اسی لیے ہی تو اونچائیوں میں رہتا ہے

کلائیوں پہ بندھی ڈور کی زباں سمجھو

بہن کا پیار ہے جو بھائیوں میں رہتا ہے

نظر کبھی نہیں آتا ہے سطحِ دریا پر

گہر ہمیشہ ہی گہرائیوں میں رہتا ہے

ذرا سی دھوپ سے جل جاتا ہے بدن اس کا

تبھی وہ مخملی پرچھائیوں میں رہتا ہے

چڑھایا جائے گا اک روز دار پر اس کو

وہ ایک شخص جو سچائیوں میں رہتا ہے

اچھالتا ہے جو پگڑی بڑوں کی محفل میں

یہ سچ ہے ذلت و رسوائیوں میں رہتا ہے

سکون ملتی ہے قیصر کی ذات کو یارو

اسی لیے ہی وہ تنہائیوں میں رہتا ہے


امتیاز قیصر

No comments:

Post a Comment