وہ اپنی فکر کی گہرائیوں میں رہتا ہے
اسی لیے ہی تو اونچائیوں میں رہتا ہے
کلائیوں پہ بندھی ڈور کی زباں سمجھو
بہن کا پیار ہے جو بھائیوں میں رہتا ہے
نظر کبھی نہیں آتا ہے سطحِ دریا پر
گہر ہمیشہ ہی گہرائیوں میں رہتا ہے
ذرا سی دھوپ سے جل جاتا ہے بدن اس کا
تبھی وہ مخملی پرچھائیوں میں رہتا ہے
چڑھایا جائے گا اک روز دار پر اس کو
وہ ایک شخص جو سچائیوں میں رہتا ہے
اچھالتا ہے جو پگڑی بڑوں کی محفل میں
یہ سچ ہے ذلت و رسوائیوں میں رہتا ہے
سکون ملتی ہے قیصر کی ذات کو یارو
اسی لیے ہی وہ تنہائیوں میں رہتا ہے
امتیاز قیصر
No comments:
Post a Comment