صفحات

Monday, 20 September 2021

میری کھوج سے اس کی سوچ تک

 ناتمام کھوج


میری کھوج سے اس کی سوچ تک

اس کی سوچ سے میری فہم تک

سمجھنے اور جاننے کے کھیل میں

چل رہا تھا وہ ذات کا تجسس

تہہ در تہہ ذات اندر ذات

کھوجنے کے عمل نے پھر

لمحوں کو جو وصال بخشا

تو جستجو کی آگ ہوئی سرد

یہ وصال عجب تھا وصال جاناں

ملن سے جس کا زوال جانا

پرت در پرت بالآخر

تجسس کے پردے بھی ہٹ رہے تھے

یہ میں نے سوچا

یہ میں نے جانا

یہ میرے جیسا تو نہیں ہے

لیکن شاید

سب کچھ ویسا بھی نہیں ہے

وسوسے دل میں گھر کر رہے تھے

اور تلاش بھی رک سی گئی تھی

مختصراً

جستجو میں اپنی

اسے بھی کھویا

اور میں بھی روئی

کھوج بھی ناتمام ٹھہری

ذات کا تجسس

بہت دل نشیں تھا لیکن

اس سفر کا جو اہتمام کیا

جستجو کو ابھی لگام کیا


لبنیٰ مقبول غنیم

No comments:

Post a Comment