ناتمام کھوج
میری کھوج سے اس کی سوچ تک
اس کی سوچ سے میری فہم تک
سمجھنے اور جاننے کے کھیل میں
چل رہا تھا وہ ذات کا تجسس
تہہ در تہہ ذات اندر ذات
کھوجنے کے عمل نے پھر
لمحوں کو جو وصال بخشا
تو جستجو کی آگ ہوئی سرد
یہ وصال عجب تھا وصال جاناں
ملن سے جس کا زوال جانا
پرت در پرت بالآخر
تجسس کے پردے بھی ہٹ رہے تھے
یہ میں نے سوچا
یہ میں نے جانا
یہ میرے جیسا تو نہیں ہے
لیکن شاید
سب کچھ ویسا بھی نہیں ہے
وسوسے دل میں گھر کر رہے تھے
اور تلاش بھی رک سی گئی تھی
مختصراً
جستجو میں اپنی
اسے بھی کھویا
اور میں بھی روئی
کھوج بھی ناتمام ٹھہری
ذات کا تجسس
بہت دل نشیں تھا لیکن
اس سفر کا جو اہتمام کیا
جستجو کو ابھی لگام کیا
لبنیٰ مقبول غنیم
No comments:
Post a Comment