ابھی فرقوں میں خلقت پڑ رہی ہے
فسادوں کی یہی تو جڑ رہی ہے
سمجھ تو دیر سے آئے گی اس کو
ابھی وہ شاعری بس پڑھ رہی ہے
اٹھا کر لائی ہے کچرے سے کاپی
اسے لکھنا ہے، پنسل گھڑ رہی ہے
کہانی پھول کی لکھی تھی میں نے
محبت تتلیوں سے بڑھ رہی ہے
جسے لڑنا نہیں آتا ہے حارث
ہمارے ساتھ اب وہ لڑ رہی ہے
حارث انعام
No comments:
Post a Comment