Monday, 20 September 2021

ابھی فرقوں میں خلقت پڑ رہی ہے

 ابھی فرقوں میں خلقت پڑ رہی ہے

فسادوں کی یہی تو جڑ رہی ہے

سمجھ تو دیر سے آئے گی اس کو

ابھی وہ شاعری بس پڑھ رہی ہے

اٹھا کر لائی ہے کچرے سے کاپی

اسے لکھنا ہے، پنسل گھڑ رہی ہے

کہانی پھول کی لکھی تھی میں نے

محبت تتلیوں سے بڑھ رہی ہے

جسے لڑنا نہیں آتا ہے حارث

ہمارے ساتھ اب وہ لڑ رہی ہے


حارث انعام

No comments:

Post a Comment