صفحات

Sunday, 19 September 2021

صعوبتیں ہیں جو مجھ پر رواسمجھتی ہوں

 صعوبتیں ہیں جو مجھ پر رواسمجھتی ہوں

انہیں میں اپنے خدا کی عطا سمجھتی ہوں

ہزار غم بھی اٹھاؤں کسی کی خاطر میں

خدا کا شکر ہے اس کو غذا سمجھتی ہوں

بھٹک بھی جاؤں اگر میں سیاہ راہوں میں

تو تیرگی کو ہی اپنا دِیا سمجھتی ہوں

مِرے تو سر پہ نوازش ہے میرے خالق کی

بھلا میں حاسد دنیا کو کیا سمجھتی ہوں

مجھے بھی دی ہے خدا نے ذرا سی عقل و فہم

خدا کے فضل سے اچھا برا سمجھتی ہوں

اگر وفاؤں کا جذبہ ہو صرف ہمدردی

محبتوں میں اسے بھی جفا سمجھتی ہوں

اگرچہ زخم ہو ناسور کی طرح میرا

تمہارا دیکھنا جاناں شفا سمجھتی ہوں

عجیب بات ہےعشبہ مِرے ستمگر کو

برا زمانہ کہے، میں بھلا سمجھتی ہوں


عشبہ تعبیر

No comments:

Post a Comment