صعوبتیں ہیں جو مجھ پر رواسمجھتی ہوں
انہیں میں اپنے خدا کی عطا سمجھتی ہوں
ہزار غم بھی اٹھاؤں کسی کی خاطر میں
خدا کا شکر ہے اس کو غذا سمجھتی ہوں
بھٹک بھی جاؤں اگر میں سیاہ راہوں میں
تو تیرگی کو ہی اپنا دِیا سمجھتی ہوں
مِرے تو سر پہ نوازش ہے میرے خالق کی
بھلا میں حاسد دنیا کو کیا سمجھتی ہوں
مجھے بھی دی ہے خدا نے ذرا سی عقل و فہم
خدا کے فضل سے اچھا برا سمجھتی ہوں
اگر وفاؤں کا جذبہ ہو صرف ہمدردی
محبتوں میں اسے بھی جفا سمجھتی ہوں
اگرچہ زخم ہو ناسور کی طرح میرا
تمہارا دیکھنا جاناں شفا سمجھتی ہوں
عجیب بات ہےعشبہ مِرے ستمگر کو
برا زمانہ کہے، میں بھلا سمجھتی ہوں
عشبہ تعبیر
No comments:
Post a Comment