صفحات

Monday, 20 September 2021

شب غم جو سورج اگانے لگا ہے

 شبِ غم جو سورج اُگانے لگا ہے

وہ خوابوں سے مجھ کو جگانے لگا ہے

جو خود ایک دن کوڑیوں میں بِکا تھا

وہ اب میری قیمت لگانے لگا ہے

یہاں حال جس سے بھی پوچھا ہے میں نے

وہی اک کہانی سنانے لگا ہے

وہ مہتاب جس کا ہے اس کا رہے گا

تُو اپنا دِیا کیوں بجھانے لگا ہے

جو ناراض تھا آسمانوں سے آصف

وہ ٹھوکر سے مٹی اُڑانے لگا ہے


شفیق آصف

No comments:

Post a Comment