صفحات

Tuesday, 21 September 2021

اب کسی سمت نہ یہ درد کا دھارا جائے

 اب کسی سمت نہ یہ درد کا دھارا جائے

چڑھتے دریا کو سمندر میں اتارا جائے

جانے والے تو کسی وقت بھی آ سکتے ہیں

شرط اتنی ہے انہیں دل سے پکارا جائے

میں تو کہتا ہوں مِرے ساتھ ہی جائے لیکن

ناؤ کہتی ہے؛ مِرے ساتھ کنارا جائے

اس کو شطرنج کے مہروں سے نہیں دلچسپی

دل یہ کہتا ہے؛ فقط عشق میں ہارا جائے

شاہ کو جس نے بچانا ہے بچاؤ اس کو

وہ پیادہ نہ کہیں راہ میں مارا جائے

میں تو اس شرط پہ دیکھوں کا پلٹ کر تنویر

میرے لہجے میں اگر مجھ کو پکارا جائے


تنویر سیٹھی

No comments:

Post a Comment