اب کسی سمت نہ یہ درد کا دھارا جائے
چڑھتے دریا کو سمندر میں اتارا جائے
جانے والے تو کسی وقت بھی آ سکتے ہیں
شرط اتنی ہے انہیں دل سے پکارا جائے
میں تو کہتا ہوں مِرے ساتھ ہی جائے لیکن
ناؤ کہتی ہے؛ مِرے ساتھ کنارا جائے
اس کو شطرنج کے مہروں سے نہیں دلچسپی
دل یہ کہتا ہے؛ فقط عشق میں ہارا جائے
شاہ کو جس نے بچانا ہے بچاؤ اس کو
وہ پیادہ نہ کہیں راہ میں مارا جائے
میں تو اس شرط پہ دیکھوں کا پلٹ کر تنویر
میرے لہجے میں اگر مجھ کو پکارا جائے
تنویر سیٹھی
No comments:
Post a Comment