صفحات

Tuesday, 21 September 2021

نہیں غمخوار بر روئے زمیں ہے

 نہیں غمخوار بر روئے زمیں ہے

اسی باعث تو اپنا دل حزیں ہے

دکھاوے کی ہیں باتیں دوستوں کی

کسی کو کوئی ہمدردی نہیں ہے

یہاں ہے حسن کا دعویٰ سبھی کو

حسیں وہ ہے کہ جس کا دل حسیں ہے

نظر ماحول پر رکھنا ہے لازم

نہ جانے کون مارِ آستیں ہے 

نہیں ہے شمعِ محفل کی ضرورت

مِرا گُل رُو بڑا روشن جبیں ہے

منور ہو گیا کاشانہ دل کا

تصور میں مِرے وہ نازنیں ہے

کچھ ایسے بھی ہیں بدقسمت جہاں میں

مقدر میں نہ دنیا ہے، نہ دیں ہے

عجب ہے اپنی جمہوری سیاست

جو وارث ہے، وہی مسند نشیں ہے

مقابل بادِ صرصر کے ہے کب سے

تِری ہمت پہ اے پھول! آفریں ہے


تنویر پھول

No comments:

Post a Comment