نہیں غمخوار بر روئے زمیں ہے
اسی باعث تو اپنا دل حزیں ہے
دکھاوے کی ہیں باتیں دوستوں کی
کسی کو کوئی ہمدردی نہیں ہے
یہاں ہے حسن کا دعویٰ سبھی کو
حسیں وہ ہے کہ جس کا دل حسیں ہے
نظر ماحول پر رکھنا ہے لازم
نہ جانے کون مارِ آستیں ہے
نہیں ہے شمعِ محفل کی ضرورت
مِرا گُل رُو بڑا روشن جبیں ہے
منور ہو گیا کاشانہ دل کا
تصور میں مِرے وہ نازنیں ہے
کچھ ایسے بھی ہیں بدقسمت جہاں میں
مقدر میں نہ دنیا ہے، نہ دیں ہے
عجب ہے اپنی جمہوری سیاست
جو وارث ہے، وہی مسند نشیں ہے
مقابل بادِ صرصر کے ہے کب سے
تِری ہمت پہ اے پھول! آفریں ہے
تنویر پھول
No comments:
Post a Comment