Tuesday, 21 September 2021

جو اس کا کھیل تھا یا دل لگی تھی

 جو اس کا کھیل تھا یا دل لگی تھی

وہی میرے لیے دل کی لگی تھی

ملا تھا جب تلک نہ ساتھ تیرا

ادھوری کس قدر یہ زندگی تھی

سمندر کی طرح دل تھا یہ بے کل

عجب ہلچل مِرے اندر رہی تھی 

مناظر ہو گئے تھے گم، یا شاید 

مِری ہی آنکھ بے منظر رہی تھی 

بنا ہے اجنبی، لگتا نہیں ہے 

کبھی مجھ سے کوئی وابستگی تھی

اندھیرا ہو گیا جانے سے اس کے

اسی کے دم سے ہر سو روشنی تھی

صبیحہ اس کی باتوں میں تھا جادو

سحر میں اس کی دیوانی ہوئی تھی


صبیحہ خان

No comments:

Post a Comment