صفحات

Tuesday, 21 September 2021

نظر سے دور رہے مجھ کو آزمائے بھی

نظر سے دور رہے مجھ کو آزمائے بھی

اگر وہ وقت نہیں ہے تو لوٹ آئے بھی

ہے آبشار تو احساس کو کرے سیراب

وہ پیاس ہے تو مِری تشنگی بڑھائے بھی

وہ موج ہے تو مجھے غرق بھی ضرور کرے

ہے نا خدا تو بھنور سے نکال لائے بھی

وہ خواب ہے تو کرے بس قیام آنکھوں میں

اگر ہے خوف تو نیندیں مِری اڑائے بھی

وہ مسئلہ ہے تو میری جبیں پہ روشن ہو

وہ کوئی حل ہے تو دل کو قرار آئے بھی

نظر شناس نہ ہو تو مجھے بھی تڑپائے

وہ دل نواز اگر ہے تو مان جائے بھی

اگر وہ اور کوئی ہے تو کوئی بات نہیں

ہے زندگی تو اندھیروں میں گنگنائے بھی


راشد انور

No comments:

Post a Comment