قدیم درد نیا واسطہ نہ بن جائے
تِرا خیال مِرا دائرہ نہ بن جائے
یہ تم جو دیکھتے ہی جا رہے ہو پتھر کو
خیال رکھنا کہیں آئینہ نہ بن جائے
گلِ مراد جو بنتا چلا گیا صحرا
مِرے ٹھہرتے ہی یہ آبلہ نہ بن جائے
زیادہ دیر ملاقات سے یہ لگتا ہے
ہمارے بیچ کوئی فاصلہ نہ بن جائے
تِرے حصار سے نکلا نہیں وجود مِرا
کہ تیرے جسم کی خوشبو نشہ نہ بن جائے
فصیلِ جسم گِرا دی تِری انا کے لیے
زمانے کے لیے یہ واقعہ نہ بن جائے
جنوں میں چل رہا ہوں آفتاب پر ایسے
میں سوچتا ہوں کہیں راستہ نہ بن جائے
رفیق لودھی
No comments:
Post a Comment