پہلے کچھ دن مِرے زخموں کی نمائش ہو گی
پھر مِرے حال پہ اس بت کی نوازش ہو گی
ہاں بظاہر تو دھرا جائے گا قاتل، لیکن
پس پردہ اسی قاتل کی سفارش ہو گی
پیاسی دھرتی یوں ہی پیاسی ہی رہے گی یارو
اور دریا پہ مسلسل یہاں بارش ہو گی
جس طرح ٹوٹے ہوئے پتے بکھر جاتے ہیں
ہم بکھر جائیں اسی طور یہ سازش ہو گی
کس کو معلوم ہے جو راز مشیت ہے عبید
جانے کس بات پہ کس شخص کی بخشش ہو گی
عبیدالرحمٰن
عبیدالرحمان
No comments:
Post a Comment