صفحات

Tuesday, 21 September 2021

شکستہ گھر ہے

 لا موجود


شکستہ گھر ہے

دہکتے آنگن میں سن رسیدہ شجر کے پتے

بکھر چکے ہیں

پرندگاں جو یہاں چہکنے میں محو رہتے تھے

خامشی کی سِلوں کے نیچے دبے پڑے ہیں

سِلیں جو گھر کی ادھڑتی چھت سے کلام کرتیں

تو روشنی کو قرار ملتا

قرار جس نے بجھے چراغوں کی حیرتوں کو

ثبات بخشا

افق سے آگے

ہمارے حیلوں

فریب دیتے ہوئے بہانوں کی قدر کم تھی

سو ہم بقا سے فنا کی جانب پلٹ رہے ہیں

خمیرِ آدم ہے استعارہ شکستگی کا

خلا سے باہر ہمارے ہونے کی کہکشائیں

سرک رہی ہیں


نعیم رضا

No comments:

Post a Comment