صفحات

Tuesday, 21 September 2021

ستم کی آگ جہاں سے بجھا بجھا کے چلو

 ستم کی آگ جہاں سے بجھا بجھا کے چلو

جہاں میں امن کی شمعیں جلا جلا کے چلو

قلم دوات کے ہتھیار دے کے بچوں کو

ستمگروں کو ہمیشہ ہرا ہرا کے چلو

چراغ بن کے جہاں سے مٹاؤ ظلمت کو

بھٹکنے والوں کو رستہ دکھا دکھا کے چلو

عناد و بغض کے صحرا میں کب تلک جی لیں

محبتوں کے چمن کو بسا بسا کے چلو

کرو شریک سبھی کو سرور میں اپنے

انا کے بت کو دلوں سے گرا گرا کے چلو

جو دیکھو راہِ محبت میں خار نفرت کے

چلو جو راہ تو ان کو ہٹا ہٹا کے چلو

جہاں میں آگ لگی ہے فساد اور شر کی

چلو جو راہ تو دامن بچا بچا کے چلو

وفا کی قحط سے چہرے سبھی ہیں مُرجھائے

وفا کے پھول کو پانی پلا پلا کے چلو

بھلا دیا ہے بشر نے وفا کی عظمت کو

سبق جہاں کو وفا کا پڑھا پڑھا کے چلو

مٹاؤ ظلم و ستم کی ہر ایک نشانی کو

جہاں میں امن کا پرچم اٹھا اٹھا کے چلو

اذانِ امن و محبت جہاں میں دے دے کر

میرے پیام کو حیدر سنا سنا کے چلو


جواد حیدر 

No comments:

Post a Comment