صفحات

Monday, 20 September 2021

ترے آزار مرتے جا رہے ہیں

 تِرے آزار مرتے جا رہے ہیں

مِرے اشعار مرتے جا رہے ہیں

خوشی ناپید ہوتی جا رہی ہے

کہ اب تہوار مرتے جا رہے ہیں

خزائیں بال کھولے ناچتی ہیں

گل و گلزار مرتے جا رہے ہیں

کہانی کس طرف کو چل پڑی ہے

سبھی کردار مرتے جا رہے ہیں

حویلی دل کی ویراں ہو گئی ہے

در و دیوار مرتے جا رہے ہیں

مجھے مرمر کے جینا پڑ رہا ہے

مِرے غمخوار مرتے جا رہے ہیں

بہت ارزاں ہوئی ہے آدمیت

کہ اب معیار مرتے جا رہے ہیں

ہم اپنی ذات کے زنداں میں ارشد

پسِ دیوار مرتے جا رہے ہیں


ارشد محمود

No comments:

Post a Comment