صفحات

Monday, 20 September 2021

اس بار اس کے ہجر کا شکوہ نہیں کیا

 اس بار اس کے ہجر کا شکوہ نہیں کیا

اس بار اس کا وصل ہی اچھا نہیں لگا

اس بار میرے شوق کی بانہیں نہیں کھلیں

اس بار خود ہی وہ مِرے سینے سے آ لگا

اس بار میل جول میں وارفتگی نہ تھی

اک دوسرے کو آج سنبھالا نہ جا سکا

اس بار انتظار کی سُولی نہیں سجی

اس بار بامِ شوق پر کوئی دِیا نہ تھا

اس بار اس نے پاؤں کے چھالے نہیں گِنے

بس بے دلی کے ساتھ مجھے دیکھتا رہا

اس بار اس کی ہار یقینی تھی اس لیے

اس بار ہم سے کھیل ہی کھیلا نہیں گیا

یہ وصل رات وقت سے پہلے ہی ڈھل گئی

اس بار اس کی زُلف کا جادو نہیں چلا

اس بار اس کی آنکھ کے جگنو بھی مر گئے

اس بار میرے خواب کا پنچھی بھی اُڑ گیا


افتخار شاہد

No comments:

Post a Comment