صفحات

Saturday, 2 October 2021

شعور عشق ملے روئے دار رقص کروں

 شعور عشق ملے روئے دار رقص کروں

ہیں میرے پاس بہانے ہزار رقص کروں

گلوئے خشک کی شہ رگ تھک کے کہتی ہے

کچھ اور تیز ہو خنجر کی دھار رقص کروں

طواف خانۂ دلدار گر نصیب نہیں

خود اپنے دل کا بنا کر مزار رقص کروں

برہنہ جسم ہے کہنہ لباس پھٹ گیا ہے

سو اوڑھ کر میں ردائے غبار رقص کروں

اجاڑ دشت میں مقتل یہ بار بار سجے

لہو میں ڈوب کے میں بار بار رقص کروں

انی کچھ اور چبھا اے ستم شعار کہ میں

تڑپ کے درد میں بے بند و بار رقص کروں

دعا ہے میری میں زخموں کی تاب لا نہ سکوں

شراب موت کا جاگے خمار رقص کروں

سنا چکا سرِ نیزہ میں ایک تازہ غزل

ندیم ہے مجھے اب اختیار رقص کروں


ندیم سرسوی

No comments:

Post a Comment