ایسی حالت نہ ہو کسی دل کی
کیا کہوں ہائے بے بسی دل کی
لطف دیکھو کہ وہ سنورتا ہے
لے کے ہاتھوں میں آرسی دل کی
اپنی حالت سنائے وہ کیوں کر
کون سمجھے گا فارسی دل کی
یہ ستم دیکھیۓ وہ کہتا ہے
غیر ممکن ہے واپسی دل کی
زخمِ خنداں کو دیکھتے جاؤ
تم نے دیکھی نہیں ہنسی دل کی
دل کا آئینہ رُوئے عاشق ہے
اس سے ظاہر ہے بیکسی دل کی
اے جمیلہ بٹھاؤ حسرت کو
وہ بھی مہمان ہے اسی دل کی
جمیلہ خدا بخش
No comments:
Post a Comment