صفحات

Saturday, 2 October 2021

ایسی حالت نہ ہو کسی دل کی

 ایسی حالت نہ ہو کسی دل کی

کیا کہوں ہائے بے بسی دل کی

لطف دیکھو کہ وہ سنورتا ہے

لے کے ہاتھوں میں آرسی دل کی

اپنی حالت سنائے وہ کیوں کر

کون سمجھے گا فارسی دل کی

یہ ستم دیکھیۓ وہ کہتا ہے

غیر ممکن ہے واپسی دل کی

زخمِ خنداں کو دیکھتے جاؤ

تم نے دیکھی نہیں ہنسی دل کی

دل کا آئینہ رُوئے عاشق ہے

اس سے ظاہر ہے بیکسی دل کی

اے جمیلہ بٹھاؤ حسرت کو

وہ بھی مہمان ہے اسی دل کی


جمیلہ خدا بخش

No comments:

Post a Comment