صفحات

Saturday, 2 October 2021

افسانۂ حیات پریشاں کے ساتھ ساتھ

 افسانۂ حیات پریشاں کے ساتھ ساتھ

دنیا بدل گئی غم پنہاں کے ساتھ ساتھ

بیتابئ حیات میں آسودگی بھی تھی

کچھ تیرا غم بھی تھا غم دوراں کے ساتھ ساتھ

اب میرے ساتھ ان کی نظر بھی ہے بے قرار

نشتر تڑپ رہے ہیں رگِ جاں کے ساتھ ساتھ

اب امتیازِ ظاہر و باطن بھی مٹ گیا

دل چاک ہو رہا ہے گریباں کے ساتھ ساتھ

نیرنگیٔ جہانِ طلب دیکھنا عظیم

بڑھتا ہے شوق تنگئ داماں کے ساتھ ساتھ


عظیم مرتضیٰ

No comments:

Post a Comment