کبھی ملے گا کبھی صرف رابطہ کرے گا
وہ اس طرح سے محبت میں مبتلا کرے گا
یہ رات کٹ ہی گئی، سو بھی لیا، رو بھی لیا
سو آنکھیں پوچھتی ہیں دوست اب تُو کیا کرے گا
تُو پاس ہو تو مِرے بس میں ہی نہیں رہتا
تُو کس طرح میرے دل کا معائنہ کرے گا
تجھے میں خود ہی کسی اور کا بنا دیتا
مجھے کیا علم تھا تُو ایسا سانحہ کرے گا
اب اس بدن سے کوئی کیوں بھلا گریز کرے
جو جانتا ہو وہ ہر بار کچھ نیا کرے گا
کفیل رانا
No comments:
Post a Comment