صفحات

Saturday, 2 October 2021

کبھی ملے گا کبھی صرف رابطہ کرے گا

 کبھی ملے گا کبھی صرف رابطہ کرے گا

وہ اس طرح سے محبت میں مبتلا کرے گا

یہ رات کٹ ہی گئی، سو بھی لیا، رو بھی لیا

سو آنکھیں پوچھتی ہیں دوست اب تُو کیا کرے گا

تُو پاس ہو تو مِرے بس میں ہی نہیں رہتا

تُو کس طرح میرے دل کا معائنہ کرے گا

تجھے میں خود ہی کسی اور کا بنا دیتا

مجھے کیا علم تھا تُو ایسا سانحہ کرے گا

اب اس بدن سے کوئی کیوں بھلا گریز کرے

جو جانتا ہو وہ ہر بار کچھ نیا کرے گا


کفیل رانا

No comments:

Post a Comment