صفحات

Saturday, 2 October 2021

عکس خیال یار سنوارا کریں گے ہم

 عکسِ خیالِ یار سنوارا کریں گے ہم

شیشے میں آئینے کو اتارا کریں گے ہم

صحرا میں اعتماد کے گم سم سماعتیں

کچھ لوگ کہہ رہے تھے پکارا کریں گے ہم

گردن کٹی ہے ہاتھ بھی شانوں سے کٹ گئے

قاتل کی سمت کیسے اشارا کریں گے ہم

میرے خلاف وہ بھی سمندر سے مل گئے

دریا تو کہہ رہے تھے کنارا کریں گے ہم

چادر سے جب نہ چھپ سکا سکڑا ہوا بدن

کھل کر اب اپنے پاؤں پسارا کریں گے ہم

سانسوں کی طرح یہ بھی ہیں جینے کو لازمی

چوٹیں جو دب چکی ہیں ابھارا کریں گے ہم

اختر ہوں جب ستارے سبھی آسمان پر

پھر کیوں کسی زمیں پہ گزارا کریں گے ہم


جنید اختر

No comments:

Post a Comment