صفحات

Saturday, 2 October 2021

کل شب عجیب درد عجب اضطراب تھا

 کل شب عجیب درد عجب اضطراب تھا

گریہ کناں سا آنکھ میں آذردہ خواب تھا

بنتا رہا نشانہ مِرے انتقام کا

اک آئینہ جو گھر میں مجھے دستیاب تھا

انسانیت کی روندی ہوئی لاش کل ملی

آنکھیں ابل رہی تھیں جگر پر حباب تھا

وہ تیری بے رخی وہ تغافل وہ احتیاط

تیری ادا نہیں تھی تِرا اجتناب تھا

وحشت تھی بوکھلائی ہوئی بال نوچتی

اک زخم بارگاہِ جنوں بازیاب تھا

خیرات دینے والے کبھی یہ بھی سوچتے

اُدھڑے ہوئے دلوں کا رفو بھی ثواب تھا

صحرا نے مرتے مرتے فرشتے کو سونپ دی

اک پوٹلی کہ جس میں سسکتا سحاب تھا


بشریٰ شاہ

بشریٰ شہزادی

No comments:

Post a Comment