صبا گل ریز جاں پرور فضا ہے
یہ موسم اور ویراں مے کدہ ہے
گرفتارِ خم و کاکل ہے کوئی
غمِ دوراں میں کوئی مبتلا ہے
نہیں ہے بے وفائی کی شکایت
تمہاری کم نگاہی کا گِلا ہے
رہِ ہستی سے مرگِ ناگہاں تک
فقط دو ہی قدم کا فاصلہ ہے
یہ دنیا امتحاں گاہِ محبت
یہ دنیا حاصلِ کرب و بلا ہے
بدل ڈالا نظام جان و دل کو
یہ سب میرے جنوں کا حوصلہ ہے
بشیر فاروق
No comments:
Post a Comment