ابھی تو دور ہیں جنوں کی منزلیں مسافرو
نگاہِ شوق سے یونہی چلے چلو، بڑھے چلو
ستاروں کے لہو سے ہی چھٹے ہے شب کی تیرگی
خوشی خوشی ہر اک ستم سہے چلو، بڑھے چلو
تمہیں پہنچنا ہے اگر یقیں کی منزلوں تک
گماں کی سرحدوں سے کچھ پرے چلو، بڑھے چلو
یہ دنیا اک مے کدہ، جنون اک شراب ہے
قدم قدم پہ جام و خُم پیۓ چلو، بڑھے چلو
سمیع! گر بدل گیا مزاجِ عاشقی تو کیا
تم اپنا مُدعا مگر کہے چلو، بڑھے چلو
تصور سمیع
No comments:
Post a Comment