صفحات

Saturday, 2 October 2021

چپ کیوں ہو اب کچھ تو کہو نا

کچھ تو کہو نا


شاردہ دیوی یاد ہے تجھ کو

کشن گنگا  کی لہر لہر نے تجھ کو نیلم پہنائے تھے 

جنم جنم کے ساتھی دریا کیا کیا یاد دلاؤں تجھ کو

راگ ملہار کھماج درباری کچھ بھی تجھ کو یاد نہیں ہے

میری چیڑ اور دیوداروں سے میرا نام مٹانے والے

اپنے نام سے ناواقف ہیں 

سبز چناروں کے پتوں پر

خون کی خیرا کُن سرخی ہے

میرے بچوں کے چہروں پر 

کاشر دیس کے سیب کی سرخی

لیکن کتنی گرد جمی ہے ریشم جیسے بالوں پر

ان بچوں نے پیلٹ گن کے گہرے گہرے وار سہے ہیں

کس نے کس کو اپنا سمجھا کس نے کس پر وار کیا ہے

پرانا قصہ پرانا قضیہ چھوڑو استحصال کی باتیں

ساری کہنہ سال کی باتیں

میرے گھر میں میرے گھر کا سودا کرنے والے

صدیوں پرانا بوڑھا سورج تجھ کو یاد دلائے گا

میری ریاست عہدِ سیاست سے پہلے تھی 

احراموں جیسی اک مضبوط عمارت تھی 

میرے دیس کی ثروت مندی 

کہاں کہاں سے نفی کرو گے 

منظرنامہ اس منظر کا تم بھی پڑھ لو 

چارہ گرو کوئی چارہ گری ہے

چپ کیوں ہو اب کچھ تو کہو نا


آمنہ بہار

No comments:

Post a Comment