وہ مِرے ہاتھ چُومنے والے
ہونٹ مٹی میں مِل گئے ہوں گے
تم کو دفنایا ہو گا مٹی میں
پھول جنت میں کِھل گئے ہوں گے
کتنی خاموش ہو گئی ہے شب
یاد کے ہونٹ سِل گئے ہوں گے
پھر سے دل نے اسے پکار لیا
آبلے پھر سے چھِل گئے ہوں گے
کتنی چیخیں تھیں سرد آہوں میں
در و دیوار ہِل گئے ہوں گے
بشریٰ شاہ
بشریٰ شہزادی
No comments:
Post a Comment