صفحات

Wednesday, 20 October 2021

جاتی ہوئی بہار کے جانے سے پیشتر

 جاتی ہوئی بہار کے جانے سے پیشتر

آ جا خزاں کا لمس جگانے سے پیشتر

سو بار دیکھتا ہے اجازت کی آنکھ سے

اک پھول میرے ہاتھ سے جانے سے پیشتر

کس پر مِرے خیال کی وسعت نہیں کھلی

میں غزلیں دیکھتا ہوں سنانے سے پیشتر

ایویں ہی لوگ کہتے ہیں چہرہ شناس ہوں

کب سوچتا ہوں آنکھ ملانے سے پیشتر

جانے یہ کیسا شور تھا دھڑکن کے آس پاس

اک بے وفا کی یاد بھلانے سے پیشتر

میں بارگاہِ عشق میں آنکھیں سنوار لوں

یعنی تِرے خیال کے آنے سے پیشتر

اے تلخئ حیات! تِرے سامنے کھڑا

اک شخص رو رہا ہے کمانے سے پیشتر

آنکھوں کے باغبان کو پُرسہ ضرور دے

اے یار! مجھ کو زخم لگانے سے پیشتر

جلنے لگی ہے آنکھ میں رنگوں کی لو سہیل

منظر کوئی تراش کے لانے سے پیشتر


سہیل رائے

No comments:

Post a Comment