صفحات

Wednesday, 20 October 2021

دواؤں اور دعاؤں میں پھنسی ہے

 دواؤں اور دعاؤں میں پھنسی ہے

حیات ان دو بلاؤں میں پھنسی ہے

تنوں کا بے ردا شاخوں پہ ماتم

خزاں قاتل ہواؤں میں پھنسی ہے

یہ گھوڑا سر جھکا کر چل رہا ہے

گلے کی رسی پاؤں میں پھنسی ہے

کوئی پاگل کسی پاگل سے پوچھے

ذہانت کن داناؤں میں پھنسی ہے

اٹھارہ سال اک کرتے کو ٹانکا

زلیخا جب قباؤں میں پھنسی ہے

میں جنت سے ابھی نکلا ہوں ساقی

یہ دیکھو مٹی پاؤں میں پھنسی ہے

شہر میں اس کی غیرت پھر رہی ہے

شریعت جس کی گاؤں میں پھنسی ہے


علی اعجاز سحر

سحر ستانوی

No comments:

Post a Comment