صفحات

Monday, 11 October 2021

اگر تو وہ بخیر ہے تو خیر ہے

 اگر تو وہ بخیر ہے، تو خیر ہے

وہ خوش میرے بغیر ہے تو خیر ہے

میں کہہ رہا تھا؛ لوٹ آ، تو لوٹتا

میں کہہ رہا ہوں خیر ہے تو خیر ہے

یہی بہت ہے اچھے میرے ساتھ ہیں

بروں کو مجھ سے بیر ہے تو خیر ہے

تمہارا آستاں تو ہے، سو فکر کیا؟

حرم، نہ در، نہ دیر ہے، تو خیر ہے

خراب حال شخص کی مدد کرو

یہ مت کہو کہ غیر ہے تو خیر ہے

تِرے وجود کا یقیں تو ہے مجھے

یقیں کا سر نہ پیر ہے تو خیر ہے

یہ کیا کہ کوئی غیر ہو تو منتیں

یہ کیا کہ گر زبیر ہے تو خیر ہے


زبیر حمزہ

No comments:

Post a Comment