صفحات

Monday, 11 October 2021

ہم ایسے پیڑوں پہ بس خزاؤں کا چل رہا ہے

 ہم ایسے پیڑوں پہ بس خزاؤں کا چل رہا ہے

تبھی تو پتوں کا رنگ زردی میں ڈھل رہا ہے

ہماری آنکھیں ہیں مردہ خوابوں کی مرقدیں اور

ہمارا دل بھی کہ جیسے ویران تھل رہا ہے

کسی کی یادوں کے آسرے پر چراغ دل کا

اندھیری راتوں میں آہ و زاری سے جل رہا ہے

ہماری حالت یہ دن بدن جو بگڑ رہی ہے

کسی کے جانے کا روگ پیہم نگل رہا ہے

بغیر اس کے حسیں نظارے بھی کچھ نہیں ہیں

ہمیں پرندوں کا چہچہانا بھی کھل رہا ہے

یہی نہیں ہے خراج الفت کا دے رہے ہیں

کسی کا دکھ بھی ہمارے اشکوں پہ پل رہا ہے

محبتوں میں ہوس پرستی عروج پر ہے

دلوں میں حرص و ہوس کا لاوا اُبل رہا ہے

جہاں میں بویا گیا تھا الفت کا بیج، تو پھر

رمیدگی کا یہ پودا کیسے نکل رہا ہے

ہم اس کو دیکھے بنا بھی جینے لگے ہیں اب قیس

یہ دل جو رنجور تھا یقیناً سنبھل رہا ہے


جمیل احمد قیس

No comments:

Post a Comment