ہم ایسے پیڑوں پہ بس خزاؤں کا چل رہا ہے
تبھی تو پتوں کا رنگ زردی میں ڈھل رہا ہے
ہماری آنکھیں ہیں مردہ خوابوں کی مرقدیں اور
ہمارا دل بھی کہ جیسے ویران تھل رہا ہے
کسی کی یادوں کے آسرے پر چراغ دل کا
اندھیری راتوں میں آہ و زاری سے جل رہا ہے
ہماری حالت یہ دن بدن جو بگڑ رہی ہے
کسی کے جانے کا روگ پیہم نگل رہا ہے
بغیر اس کے حسیں نظارے بھی کچھ نہیں ہیں
ہمیں پرندوں کا چہچہانا بھی کھل رہا ہے
یہی نہیں ہے خراج الفت کا دے رہے ہیں
کسی کا دکھ بھی ہمارے اشکوں پہ پل رہا ہے
محبتوں میں ہوس پرستی عروج پر ہے
دلوں میں حرص و ہوس کا لاوا اُبل رہا ہے
جہاں میں بویا گیا تھا الفت کا بیج، تو پھر
رمیدگی کا یہ پودا کیسے نکل رہا ہے
ہم اس کو دیکھے بنا بھی جینے لگے ہیں اب قیس
یہ دل جو رنجور تھا یقیناً سنبھل رہا ہے
جمیل احمد قیس
No comments:
Post a Comment