صفحات

Monday, 11 October 2021

قربتوں کے نشے یاد آنے لگے شام ٹھہری رہی

 قربتوں کے نشے یاد آنے لگے، شام ٹھہری رہی

راکھ سے سرد شعلے اٹھانے لگے، شام ٹھہری رہی

اول اول سماعت میں مہکے ہوئے بے بہا زمزمے

مسکرانے لگے، سر اٹھانے لگے، شام ٹھہری رہی

تشنگی اور میں ساتھ چلتے رہے تارے جلتے رہے

ریت کی دھن پہ ہم گنگنانے لگے، شام ٹھہری رہی

کوئی وحشت زدہ اس گلی میں گیا، وقت رک سا گیا

پھر پلٹنے میں اس کو زمانے لگے، شام ٹھہری رہی

نام تیرا کسی نے لیا بزم میں اور تِرے ماتمی

آنکھ بھرنے لگی، نم چھپانے لگے، شام ٹھہری رہی

ایک کھڑکی کھلی یاد کی، تیز بارش برسنے لگی

نقشِ لا حاصلی جگمگانے لگے، شام ٹھہری رہی

اک قدیمی تمنا کے ساحل پہ کچے گھروندے تھے ہم

تیز آندھی چلی، ہم ٹھکانے لگے، شام ٹھہری رہی


آئلہ طاہر

No comments:

Post a Comment