بیچ سمندر حشر بپا ہے
ایک مگرمچھ کھیل رہا ہے
آنکھ فریم ہے تصویروں کا
جو ہر حد تک پھیل چکا ہے
اندھے دریا میں رہتی ہے
مچھلی کی فطرت میں دیا ہے
اپنی صورت ریت کو دے کر
ایک نگر آباد کیا ہے
سانس بھی شور نما لگتی ہے
کالی رات بھی ایک بلا ہے
اس نے مجھ کو حسن دیا تھا
میں نے احسن نام رکھا ہے
عزیز احسن
No comments:
Post a Comment