Sunday, 3 October 2021

بیچ سمندر حشر بپا ہے

 بیچ سمندر حشر بپا ہے

ایک مگرمچھ کھیل رہا ہے

آنکھ فریم ہے تصویروں کا

جو ہر حد تک پھیل چکا ہے

اندھے دریا میں رہتی ہے

مچھلی کی فطرت میں دیا ہے

اپنی صورت ریت کو دے کر

ایک نگر آباد کیا ہے

سانس بھی شور نما لگتی ہے

کالی رات بھی ایک بلا ہے

اس نے مجھ کو حسن دیا تھا

میں نے احسن نام رکھا ہے


عزیز احسن

No comments:

Post a Comment