Sunday, 3 October 2021

ہوتا ہے شب ہجر میں اس بات کا امکان

 ہوتا ہے شبِ ہجر میں اس بات کا امکان

خوابوں کے جزیرے پہ ملاقات کا امکان

ہم ایسے فقیروں نے سرِ ذہن رکھا ہے

اک آنکھ سے بٹتی ہوئی خیرات کا امکان

ان ہونٹوں سے کی جاتی ہے دونوں کی توقع

تردید کا دھڑکا،۔ کبھی اثبات کا امکان

اک شخص سے ملنے کی تمنا مِرے دل میں

ہے قحط زدہ گاؤں میں برسات کا امکان

عادت ہے ہر اک بات پہ آمین کی مجھ کو

بننے نہیں دوں گا میں شکایات کا امکان

بھرپور جوابات لیے پھرتا ہوں اب کے

ہے پیش نظر میرے سوالات کا امکان

کوشش کے نتیجے میں نکل سکتا ہے حماد

سورج کے تعاقب میں کسی رات کا امکان


خلیل الرحمٰن حماد

No comments:

Post a Comment