Sunday, 3 October 2021

تازہ ہے زخم دکھ ہے پرانے کا آج بھی

 تازہ ہے زخم دکھ ہے پرانے کا آج بھی

غم ہے مکینِ دل کے بھلانے کا آج بھی

لمحہ قفس میں یاد کی لپٹا ہوا ہے دیکھ

اس کی جبِیں پہ ہونٹ سجانے کا آج بھی

بالوں میں آ گئی ہے سفیدی اور ایک میں

خواہاں ہوں اس کو اپنا بنانے کا آج بھی

دل سے گئے ہوئے اسے صدیاں گزر گئیں

زندہ ہے سوگ خود کو رُلانے کا آج بھی

سیٹی بجی جو ریل کی پھیلی فسردگی

منظر ہے منتظر کیوں ہنسانے کا آج بھی

واقف ہوں کیفیات سے اس کی مگر مجھے

آتا نہیں ہے ڈھنگ منانے کا آج بھی

آہ و بکا ہو، سسکیاں ہوں، یاد ہو بھلے

ملتا ہے مول اشک بہانے کا آج بھی

سچا ہو عشق رُوح کی تسکین ہیں الم

سودا بُرا نہیں ہے نبھانے کا آج بھی

سر پر ہے غم کی پوٹلی پگڈنڈیاں ہیں چُپ

صدمہ ہے دل کو لوٹ کر جانے کا آج بھی

کہتی ہے سرخوشی مجھے کاشف تمام رات

بانہوں میں اپنی بھر کے سُلانے کا آج بھی


کاشف رانا

No comments:

Post a Comment