صفحات

Thursday, 21 October 2021

سچائی کو کہانی بنتے دیکھا ہے

 سچائی کو کہانی بنتے دیکھا ہے

میں نے خون کو پانی بنتے دیکھا ہے

سُونی ہوتے دیکھی ہے دل کی بستی

محفل کو ویرانی بنتے دیکھا ہے

ٹوٹتے دیکھا رسم و رواجوں کا پنجرہ

خواہش کو من مانی بنتے دیکھا ہے

وقت بگڑ جانے کی فقط افواہوں پر

خلقت کو بے گانی بنتے دیکھا ہے

پیاز کے چھلکے مہنگے ہوتے دیکھے ہیں

اشکوں کو ارزانی بنتے دیکھا ہے

بنتے دیکھا ہے آسانی کو مشکل

مشکل کو آسانی بنتے دیکھا ہے

خواب میں اس کو دیکھا راجہ بنتے

خود کو اس کی رانی بنتے دیکھا ہے

گرم چمکتی دھوپ میں اُس کے آنے پر

موسم کو بارانی بنتے دیکھا ہے

ایک طرح کے منافق لوگوں کو

وقتی یار جانی بنتے دیکھا ہے


ریحانہ روحی

No comments:

Post a Comment