صفحات

Thursday, 21 October 2021

مرور وقت کی ہے داستان حرفوں میں

 مرورِ وقت کی ہے داستان حرفوں میں

ہزاروں دفن ہیں تاریخ دان حرفوں میں

برائے جاں نہیں دیووں کے پاس طوطے

کچھ آدمی بھی ہیں جن کی جان حرفوں میں

الٰہی! کون تھا وہ جیبھ کا جلا، جس نے

کتر کتر کے نکالی ہے زبان حرفوں میں

ہر ایک جنس کا بازار ہو چلا کالا

کبھی نہ کھولتے فکری دُکان حرفوں میں

ہم آدمی ہیں حرفوں کو کیسے گیان ہوا

کہ بس گیا ہے تمہارا ہی دھیان حرفوں میں

جو اہلِ نور ہیں جنت میں جا جواں ہوں گے

ہم اہلِ نار رہیں گے جوان حرفوں میں


اصغر علی شاہ

No comments:

Post a Comment