کوئی تو راہ دے رہبروں کی طرح
ہو کوئی میل کے پتھروں کی طرح
مشورے ہم بھی دنیا سے کر لیں جناب
مشورے تو ملیں مشورں کی طرح
ایک دِن تیرا مغرور سر ہو گا خم
اے ستمگر! یزیدی سَروں کی طرح
زندگی کے معانی سے واقف نہیں
جو جیا عمر بھر جوکروں کی طرح
بڑھ گئی کس قدر بھیڑ دنیا میں، اُف
ہو گئے گھر بھی چڑیا گھروں کی طرح
کاش مل جائیں انسان کو بال و پر
جی رہا ہے وہ اب بے پروں کی طرح
ہوش مند آدمی بھی تو گوہر بہت
جی رہے ہیں یہاں مسخروں کی طرح
تنویر گوہر
No comments:
Post a Comment