صفحات

Thursday, 21 October 2021

کوئی تو راہ دے رہبروں کی طرح

 کوئی تو راہ دے رہبروں کی طرح

ہو کوئی میل کے پتھروں کی طرح

مشورے ہم بھی دنیا سے کر لیں جناب

مشورے تو ملیں مشورں کی طرح

ایک دِن تیرا مغرور سر ہو گا خم

اے ستمگر! یزیدی سَروں کی طرح

زندگی کے معانی سے واقف نہیں

جو جیا عمر بھر جوکروں کی طرح

بڑھ گئی کس قدر بھیڑ دنیا میں، اُف

ہو گئے گھر بھی چڑیا گھروں کی طرح

کاش مل جائیں انسان کو بال و پر

جی رہا ہے وہ اب بے پروں کی طرح

ہوش مند آدمی بھی تو گوہر بہت

جی رہے ہیں یہاں مسخروں کی طرح


تنویر گوہر

No comments:

Post a Comment