صفحات

Thursday, 21 October 2021

حق کا دست امیں حق کی جائے اماں یا علی

 عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ

مرثیہ کربلا کربلا سے اقتباس


حق کا دستِ امیں، حق کی جائے اماں، یا علی ولی تو ہے حق کی زباں

حق کی تلوار ہے، حق کا قرآن ہے، حق کی میزان ہے خلق کے درمیاں

نارِ بوجہل کو آبِ شمشیر سے، کر دیا عدل و احسان کا بوستاں

صلح بھی ہے تیری اک جہادِ خموش، جس سے باقی ہے دنیا میں بانگِ اذاں

وقت لیتا ہے ہر شخص کا امتحاں ، وقت کا اس جری نے لیا امتحاں


خاکِ آدم کو تسخیر اس نے کیا، میرے مولا کا ہے اک لقب بوترابؑ

جنگ ہے عدل اور صلح و احسان ہے، امرِ معروف ہے زندگی کی کتاب

صلح ہے حفظِ جمعیتِ اہلِ دیں، جنگ ہے رخنۂ دین کا سدِ باب

صلح ہو جنگ ہو دونوں صورت میں ہے، صاحبِ عصر کا عصر پر احتساب

جب نہ لایا جہاں طاقتِ احتساب، وہ جہاں سے گیا پیشِ حق کامیاب


بوستانِ محمدﷺ کے سرو و سمن، اے دیارِ محمدؐ کے یوسف، حسن

جنگ آسان ہے، صلح دشوار ہے، ہر نفس زیست جیسے گلے کی رسن

دار تک ابنِ مریم کا جیسے جلوس، ہر طرف لوگ خندہ کناں، طعنہ زن

بیچ میں وہ مسیحائے دورِ فتن، رحم و رافت کی دل میں لگائے لگن

اے ملامت کی وادی کے خضرؑ طریق، تیرے قدموں پہ قربان یہ جان و تن


ایک کشتی مساکین کا آسرا، وہ سفینہ کہ نام اس کا اسلام ہے

کم نظر سمجھے خرقِ سفینہ ہوا، حق یہ ہے غاصبوں سے بچایا اسے

ملک اور عصبیت کا وہ دیوِ مہیب، جس کو دعوے تھے ابنیتِ دین کے

کردیا قتل اس کفر و طغیان کو، دیں کو نعم البدل کربلا میں ملے

تھام لی تو نے دیوار گرتی ہوئی، تاکہ حقدار کو حق پہنچتا رہے


شجرۂ صلح، شبر کے نورس ثمر، ورثہ دارِ علیؑ، وارثِ ذوالفقار

عیدِ نظارہ ہے جلوۂ ذوالفقار، گلشنِ تازہ آئیں کی پروردگار

ممکناتِ جہاں مضمراتِ زماں، جوہرِ آدمیت کی آئینہ دار

دافعِ ظلم و شر، قاطعِ مکر و فن، سحرِ فرعون اک ضرب سے تار تار

جتنا نیچے جھکے حق کے آگے حسینؑ اتنا اونچا جہاں میں ہے تیرا وقار


ذکر و فکر، آہ و زاری کی شب ہائے تار، ان شبوں کی مبارک سحر ذوالفقار

اس کی غیبت نیام اس کا جلوہ قیام، غیرتِ حق کی تِرچھی نظر ذوالفقار

لا ا لہٰ اور اللہ کے بیچ میں، رشتۂ مبتدا و خبر ذوالفقار

بجلیاں عرش سے لے کے نازل ہوئی، کرنے روشن عبادت کا گھر ذوالفقار

معرکہ بدر کا ہو کہ ہو کربلا، ہے تِرے نام فتح و ظفر ذوالفقار


ان بتوں کے لیے جب نہ باقی رہے، ساری دنیا میں ملجا و ماوا کہیں

آ کے کعبہ میں لیتے ہیں اکثر پناہ، مکر سے اپنے ہوتے ہیں مسند نشیں

فطرتاً سازشی ہیں بتانِ حرم، غیرتِ حق کو شرکت گوارا نہیں

اے میں قرباں اُبھرتا ہے کس شان سے، مکر اصنام سے حق کا کیدِ متیں

بدر، صفین، صلحِ حسن، کربلا، مل کے کرتے ہیں تفسیرِ فتحِ مبیں


ایک دن تھا کہ کعبہ سے نکلے تھے بُت، سرنگوں، منہ چھپائے ہوئے شرمسار

پھر پلٹ آئے ظالم نئے روپ میں اور کرنے لگے دین کا کاروبار

ہو گیا کعبۃاللہ رہنِ بتاں، آج اک ضرب میں تُو نے اے ذوالفقار

اپنے کعبہ کو کروا لیا واگزار، بے سند ہو گیا غیر کا اقتدار

ہیں معلق سراسیمہ پا در ہوا، وہ محمدﷺ کی تلوار کے دعویدار


کرار حسین

No comments:

Post a Comment