صفحات

Friday, 22 October 2021

وہ منفرد تھی جدا تھی نرالی ہوتی تھی

 وہ منفرد تھی جدا تھی نرالی ہوتی تھی

اور اس کی شوخ طبیعت ابالی ہوتی تھی

مِرا تو بس پہ لٹک جانا اک غنیمت تھا

اور اس کے واسطے ہر سیٹ خالی ہوتی تھی

وہ کیسے چھپ کے مجھے دیکھتی تھی کمرے سے

برآمدے سے کچن تک تو جالی ہوتی تھی

وہ امتزاج پسند اتنی شوخ چنچل تھی

سفید کُرتے کی میچنگ بھی کالی ہوتی تھی

جی دودھ ختم ہے، بس آئی بابا، پانچ منٹ

یوں باتوں باتوں میں چائے بنا لی ہوتی تھی

وہ سِپ لگا کے بتاتی تھی چائے میٹھی نہیں

ستم تو دیکھ کہ چینی بھی ڈالی ہوتی تھی


علی اعجاز سحر

سحر ستانوی

No comments:

Post a Comment