صفحات

Thursday, 7 October 2021

آخری وعدہ مری جاں قبل اس کے

 آخری وعدہ


مِری جاں

قبل اس کے

وقت کوئی چال چل دے

اور

محبت جُرم بن جائے

جہاں ہم کو سرِ محفل تماشا ہی بنا ڈالے

خطاؤں سے، گناہوں سے 

میں نالاں کر نہ دوں رب کو

چلو اک وعدہ کرتے ہیں

جو نافذ ہو گا دونوں ہر

"کبھی نا یاد آنے کا"

تمہیں میں بھول جاؤں گی

مجھے تم بھول جانے کا


رقیہ غزل

No comments:

Post a Comment