ہر ایک اینٹ میں دل کی غذا ہے شہزادی
تِرا محل ہے کہ خوابوں کی جا ہے شہزادی
نئے طریق سے اس کی کرن کرن کو اوڑھ
تِرے اُفق پہ یہ سورج نیا ہے شہزادی
ہنوز چائے میں بیدار ہے تِرا وہ لمس
زباں میں اب بھی تِرا ذائقہ ہے شہزادی
ملی ہیں سُوکھتے دریا کو بحر کی لہریں
تِرے گلاس میں پانی پیا ہے شہزادی
انا کا پردہ ہٹا بھی کہ تیرا شہزادہ
تِرے ہی قلب میں مُردہ پڑا ہے شہزادی
حارث بلال
No comments:
Post a Comment