صفحات

Thursday, 7 October 2021

ہر ایک اینٹ میں دل کی غذا ہے شہزادی

 ہر ایک اینٹ میں دل کی غذا ہے شہزادی

تِرا محل ہے کہ خوابوں کی جا ہے شہزادی

نئے طریق سے اس کی کرن کرن کو اوڑھ

تِرے اُفق پہ یہ سورج نیا ہے شہزادی

ہنوز چائے میں بیدار ہے تِرا وہ لمس

زباں میں اب بھی تِرا ذائقہ ہے شہزادی

ملی ہیں سُوکھتے دریا کو بحر کی لہریں

تِرے گلاس میں پانی پیا ہے شہزادی

انا کا پردہ ہٹا بھی کہ تیرا شہزادہ

تِرے ہی قلب میں مُردہ پڑا ہے شہزادی


حارث بلال

No comments:

Post a Comment