مِرا دل آگ میں اپنی جلا آہستہ آہستہ
مجھے یہ زخم کس نے ہے دیا آہستہ آہستہ
کہ جیسے تُو ہُوا مجھ سے خفا آہستہ آہستہ
تِری چاہت کا دیپک بھی بجھا آہستہ آہستہ
قمر سورج سے مشرق میں چُھپا آہستہ آہستہ
شبِ ظلمت کا اندھیرا چھٹا آہستہ آہستہ
تُو اپنے زخم مجھ کو مت دِکھا آہستہ آہستہ
تجھے مجھ سے شکایت ہے؟ بتا آہستہ آہستہ
اگر بے تابیاں ہوں ایسی تو منزل بھلا کیسی
مِرے کوچے میں آنا ہے تو آ آہستہ آہستہ
مجھے ایسے عہد سے کچھ امیدیں بھی نہیں باقی
نشہ جامِ سبو کا تو چڑھا آہستہ آہستہ
میں ابروئے فلک میں یوں تماشا بن گیا جیسے
مٹی تیری ہتھیلی سے حنا آہستہ آہستہ
مِرے دل میں تِری آہٹ نے یوں کروٹ لی جاناں
ہُوا جیسے حشر دل میں بپا آہستہ آہستہ
مِرے احساس کی چوکھٹ پہ دستک دی کسی نے یوں
کوئی ہو کھولتا بندِ قبا آہستہ آہستہ
بلال اعظم
No comments:
Post a Comment