صفحات

Wednesday, 20 October 2021

تمہاری یاد کے دیپک بھی اب جلانا کیا

 تمہاری یاد کے دیپک بھی اب جلانا کیا

جدا ہوئے ہیں تو عہدِ وفا نبھانا کیا

بسیط ہونے لگی شہرِ جاں پہ تاریکی

کُھلا ہوا ہے کہیں پر شراب خانہ کیا

کھڑے ہوئے ہو میاں گنبدوں کے سائے میں

صدائیں دے کے یہاں پر فریب کھانا کیا

ہر ایک سمت یہاں وحشتوں کا مسکن ہے

جنوں کے واسطے صحرا و آشیانہ کیا

وہ چاند اور کسی آسماں پہ روشن ہے

سیاہ رات ہے اس کی گلی میں جانا کیا


اظہر اقبال

No comments:

Post a Comment