صفحات

Wednesday, 20 October 2021

چھوڑنا تھا انہیں آسان بھلانا مشکل

 چھوڑنا تھا انہیں آسان، بھلانا مشکل

ترکِ الفت کا جو وعدہ تھا نبھانا مشکل

جاتے جاتے جو پلٹ کر وہ ذرا ٹھہرے تھے

پھر تو عالم وہ ہُوا دل کا بتانا مشکل

گہری تنہائی، اداسی، وہ برستی بارش

آخرِ شب تھا چراغوں کو جلانا مشکل

وہ جو شوقین مسافر تھے نئے رستوں کے

پھر سے آواز انہیں دے کے بلانا مشکل

اب تو دل بھی یہ بضد ہے کہ نئی بازی ہو

ہم تو مہرے بھی پرانے ہیں ہرانا مشکل

وہ جو لوٹے ہیں خدارا یہ نئی الجھن ہے

دل کو پھر ان کا طلب گار بنانا مشکل


ہما علی

No comments:

Post a Comment