صفحات

Friday, 22 October 2021

دل کا حال سننے میں حال دل سنانے میں

 دل کا حال سننے میں حالِ دل سنانے میں

عمر بیت جائے گی روٹھنے منانے میں

وحشتوں میں یکتا ہیں پوچھ لوں زمانے سے

کون ہے کوئی ہم سا قیس کے گھرانے میں

آؤ دونوں مل کر ہم مسئلے کا حل ڈھونڈیں

دل کو توڑ بیٹھے ہیں دیکھنے دکھانے میں

جانے کون سی منزل جستجو میں رکھی تھی

عمر کاٹ دی ہم نے راستے بنانے میں

ہم کو ان اناؤں نے نامراد رکھا ہے

ورنہ لطف آ جاتا روٹھنے منانے میں

یہ تو ہم مروت میں مار کھا گئے ورنہ

دیر کتنی لگتی ہے آسماں گرانے میں


حمزہ دائم

No comments:

Post a Comment