ایک ہاتھ کی کہانی
چھوٹا سا ایک ہاتھ ہے پھیلا
نیلی، سبزی مائل آنکھیں
پوچھ رہی ہیں
پیسہ دو گے؟
وقت ایسا ہے کہ بینائی سے خوف آتا ہے
پاس آتی ہوئی اک کھائی سے خوف آتا ہے
نوحۂ شہر نامراداں
شبنمیں رات رو گئی ہے
دکھ کا ہے اک غبار ہر سُو
خلق بے آس ہو گئی ہے
خورشید حسنین
No comments:
Post a Comment