صفحات

Friday, 22 October 2021

چھوٹا سا ایک ہاتھ ہے پھیلا

ایک ہاتھ کی کہانی


چھوٹا سا ایک ہاتھ ہے پھیلا

نیلی، سبزی مائل آنکھیں

پوچھ رہی ہیں

پیسہ دو گے؟

وقت ایسا ہے کہ بینائی سے خوف آتا ہے

پاس آتی ہوئی اک کھائی سے خوف آتا ہے

نوحۂ شہر نامراداں

شبنمیں رات رو گئی ہے

دکھ کا ہے اک غبار ہر سُو

خلق بے آس ہو گئی ہے


خورشید حسنین

No comments:

Post a Comment